TRW Insight / بنگلہ دیش
پاکستان میں رہنا وارث کا حصہ نہیں بدلتا، مگر بنگلہ دیش میں جائیداد تک پہنچنے کا راستہ ضرور بدل دیتا ہے۔ درست ذاتی قانون، مکمل وارث فہرست، رجسٹرڈ تقسیم اور درست طریقے سے تصدیق شدہ مختار نامہ ہی حصے کو قابلِ استعمال ملکیت بناتے ہیں۔
بنگلہ دیش میں وراثتی قانون: پاکستانی خاندانوں کے لیے 2026 کا رہنما
بنگلہ دیش میں وراثتی قانون کوئی ایک ضابطہ نہیں بلکہ مرحوم کے مذہب کے مطابق لاگو ہونے والے ذاتی قوانین کا مجموعہ ہے۔ مسلمان کی جائیداد فرائض کے مقررہ حصوں کے مطابق تقسیم ہوتی ہے، جس میں مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 ایک اہم ترمیم کرتا ہے؛ ہندو جائیداد دایابھاگ مکتب کے تحت جاتی ہے، اور مسیحی و دیگر جائیدادیں جانشینی ایکٹ 1925 کے تحت۔ پاکستان میں رہنے والے وارثوں کے لیے، جن کے والدین یا دادا دادی کی زمین، فلیٹ یا بینک کھاتے بنگلہ دیش میں ہیں، یہ جاننا پہلا قدم ہے۔
یہ رہنما مضمون مسلم وراثت کے حصے، یتیم پوتوں کا حق، وصیت اور ہبہ، وارث سرٹیفکیٹ اور جانشینی سرٹیفکیٹ، انتقال (میوٹیشن) اور تقسیم، اور پاکستان سے مختار نامے اور دستاویزات کے ذریعے کارروائی کا طریقہ بیان کرتا ہے۔

خلاصہ: بنگلہ دیش میں جانشینی مرحوم کے مذہب سے طے ہوتی ہے: مسلم جائیداد فرائض، ہندو جائیداد دایابھاگ اور مسیحی و دیگر جائیداد جانشینی ایکٹ 1925 کے تحت۔ اس کے بعد وارث، وارث سرٹیفکیٹ، جانشینی سرٹیفکیٹ یا پروبیٹ سے اپنی حیثیت ثابت کرتے ہیں، تقسیم نامہ رجسٹر کراتے ہیں اور انتقال مکمل کراتے ہیں۔ وارث کا پاکستان میں رہنا اس کا حصہ نہیں بدلتا، صرف کارروائی کا طریقہ بدلتا ہے۔
اہم نکتہ: کسی وارث کو حصہ ملنے سے پہلے تجہیز و تکفین کے اخراجات، قرض اور جائز وصیت ادا ہوتی ہے۔ فروری 2025 سے وزارتِ اراضی نے واضح کیا ہے کہ وارث صرف وراثت سرٹیفکیٹ پر مشترکہ انتقال کرا سکتے ہیں، جبکہ الگ الگ قطعات کے الگ انتقال کے لیے رجسٹرڈ تقسیم نامہ ضروری ہے۔
ایک نظر میں
مسلم جائیداد
میاں بیوی، والدین اور بیٹیوں کے مقررہ قرآنی حصے؛ بیٹے اور بیٹیاں عصبہ کے طور پر دو اور ایک کی نسبت سے۔
یتیم پوتے
1961 کے آرڈیننس کی دفعہ 4 انہیں وہ حصہ دیتی ہے جو ان کے فوت شدہ والد یا والدہ کو ملتا۔
وصیت اور ہبہ
مسلمان ایک تہائی تک وصیت کر سکتا ہے؛ 2026 کی ترمیم تاحیات استعمال کے حق کے ساتھ ہبہ کو تسلیم کرتی ہے۔
دستاویزات
وارث سرٹیفکیٹ، جانشینی سرٹیفکیٹ، رجسٹرڈ تقسیم نامہ اور انتقال سے حصہ قابلِ استعمال ملکیت بنتا ہے۔
پاکستان سے کارروائی
بنگلہ دیشی مشن میں مختار نامہ، ڈھاکہ میں تصدیق اور اسٹامپ؛ پاکستانی دستاویزات پر اپوسٹل۔
فہرستِ مضامین
بنگلہ دیش میں وراثتی قانون کیسے طے ہوتا ہے
بنگلہ دیش میں جانشینی کا کوئی یکساں دیوانی ضابطہ نہیں۔ لاگو قانون مرحوم کا ذاتی قانون ہے، جو عموماً وفات کے وقت اس کے مذہب سے طے ہوتا ہے۔ مسلم پرسنل لا (شریعت) ایپلیکیشن ایکٹ 1937 کہتا ہے کہ جب فریق مسلمان ہوں تو بلا وصیت جانشینی، ہبہ، وقف اور عورتوں کی مخصوص جائیداد کے معاملات مسلم ذاتی قانون سے طے ہوں گے، چاہے کوئی رواج اس کے خلاف ہو۔[2]
پاکستانی خاندانوں کے لیے یہ ڈھانچہ مانوس ہوگا۔ مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 اسی دور کا قانون ہے جب موجودہ بنگلہ دیش مشرقی پاکستان تھا، اور بنگلہ دیش میں یہ آج بھی نافذ ہے۔[1] البتہ بعد کی ترامیم، عدالتی فیصلے اور زمین کے ریکارڈ کا نظام دونوں ملکوں میں الگ راستوں پر چلے ہیں، اس لیے پاکستانی قانون کے مفروضے بنگلہ دیش میں براہِ راست لاگو نہ کریں۔
ہندو، مسیحی اور دیگر
بنگلہ دیش میں ہندو جانشینی دایابھاگ مکتب کے تحت ہوتی ہے۔ جانشینی ایکٹ 1925 کا حصہ پنجم، جو بلا وصیت جانشینی کے عمومی اصول رکھتا ہے، ہندو، مسلمان، بدھ، سکھ اور جین کی جائیداد پر لاگو نہیں ہوتا؛ عملاً یہ مسیحیوں اور دیگر پر لاگو ہوتا ہے، جبکہ پروبیٹ اور جانشینی سرٹیفکیٹ کا طریقۂ کار سب کے لیے ہے۔[5] مسیحی بیوہ کو اولاد کی موجودگی میں ایک تہائی ملتا ہے اور باقی بچوں میں برابر تقسیم ہوتا ہے۔[5]
بنگلہ دیش میں وراثتی قانون: مسلم فرائض کے حصے
فرائض میں وارث دو بڑے گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ ذوی الفروض قرآن میں مقرر حصے لیتے ہیں، اور عصبہ باقی ماندہ ترکہ لیتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے بیشتر مسلمان حنفی سنی اصولوں پر چلتے ہیں، جن میں دور کے رشتہ دار عموماً تب ہی وارث بنتے ہیں جب کوئی ذوی الفروض یا عصبہ نہ ہو۔ بنگلہ دیش میں وراثتی قانون کا یہی حصہ ملک کی سب سے زیادہ جائیدادوں پر لاگو ہوتا ہے۔
بنیادی مقررہ حصے
بیوی کو اولاد نہ ہونے پر شوہر کے ترکے کا چوتھائی اور اولاد ہونے پر آٹھواں حصہ ملتا ہے۔ شوہر کو اولاد نہ ہونے پر بیوی کے ترکے کا نصف اور اولاد ہونے پر چوتھائی۔ بیٹا نہ ہو تو اکیلی بیٹی نصف اور دو یا زیادہ بیٹیاں دو تہائی میں شریک ہوتی ہیں۔ اولاد کی موجودگی میں والدین میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملتا ہے؛ اولاد نہ ہو تو ماں کو تہائی، جو بہن بھائی ہونے پر چھٹا رہ جاتا ہے۔[3]
بیٹے، بیٹیاں اور دو اور ایک کا اصول
بیٹا موجود ہو تو بیٹیاں مقررہ حصے دار نہیں رہتیں بلکہ اس کے ساتھ عصبہ بن جاتی ہیں، اور ہر بیٹے کو ہر بیٹی سے دوگنا ملتا ہے۔[3] مثال کے طور پر ایک شخص بیوی، ماں، باپ، دو بیٹوں اور ایک بیٹی کو چھوڑتا ہے۔ بیوی آٹھواں حصہ لیتی ہے، والدین چھٹا چھٹا، اور باقی پانچ برابر اکائیوں میں بٹتا ہے: ہر بیٹے کی دو اکائیاں اور بیٹی کی ایک۔ یہ حساب تحریری صورت میں تیار کریں اور تمام وارثوں سے اس پر اتفاق لیں۔
وصیت، ہبہ اور 2026 کی نئی سہولت
مسلمان خالص ترکے کے ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت نہیں کر سکتا، اور اس حد سے زیادہ یا کسی وارث کے حق میں وصیت دوسرے وارثوں کی رضامندی سے ہی مؤثر ہوتی ہے۔[4] مسلم وصیت کے لیے پروبیٹ ضروری نہیں، کیونکہ جانشینی ایکٹ کی دفعہ 213 مسلمانوں کی وصیتوں کو اس شرط سے مستثنیٰ کرتی ہے۔[5]
زندگی میں منصوبہ بندی کے لیے رجسٹرڈ ہبہ بنیادی ذریعہ ہے۔ ستمبر 2026 میں پارلیمنٹ نے ٹرانسفر آف پراپرٹی (ترمیمی) ایکٹ 2026 منظور کیا، جو والدین، دادا دادی، اولاد اور میاں بیوی کے درمیان ایسے ہبہ کو تسلیم کرتا ہے جس میں دینے والا تاحیات استعمال کا حق اپنے پاس رکھے۔[10] اس کے نفاذ کی تاریخ ایکٹ کے سرکاری متن سے تصدیق کریں۔ اس سلسلے میں ہمارا ہبہ، وصیت اور تحفے کی رجسٹریشن کا رہنما مفید ہے۔

یتیم پوتے اور 1961 کے آرڈیننس کی دفعہ 4
کلاسیکی حنفی قانون میں قریبی وارث دور کے وارث کو محروم کر دیتا تھا، اس لیے جس پوتے کا باپ دادا سے پہلے فوت ہو جائے وہ دوسرے بیٹے کی موجودگی میں کچھ نہ پاتا۔ مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 کی دفعہ 4 نے یہ بدل دیا: ایسے بیٹے یا بیٹی کی اولاد، جو وراثت کھلنے کے وقت زندہ ہو، وہ حصہ پاتی ہے جو ان کے والد یا والدہ کو زندہ ہونے پر ملتا۔ دفعہ 3 اس قانون کو ہر مخالف قانون یا رواج پر فوقیت دیتی ہے۔[1]
یہ اصول فوت شدہ بیٹی کی اولاد پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جو وارث فہرست یا وارث سرٹیفکیٹ یتیم پوتوں یا نواسوں کو چھوڑ دے وہ ناقص ہے، اور اس پر مبنی انتقال یا تقسیم کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ ہمارا مسلم وراثتی قانون کا تجزیہ اس بحث کو تفصیل سے دیکھتا ہے۔
وارث ہونے کا ثبوت: وارث سرٹیفکیٹ، جانشینی سرٹیفکیٹ اور پروبیٹ
حصے جاننا آدھا کام ہے۔ بینک، کمپنیاں، سب رجسٹرار اور زمین کے دفاتر تب تک کچھ نہیں کرتے جب تک وارث اپنی حیثیت ثابت نہ کریں۔ غلط دستاویز کا انتخاب تاخیر کی عام وجہ ہے۔
وارث سرٹیفکیٹ
وارث سرٹیفکیٹ ایک انتظامی دستاویز ہے جو دیہی علاقوں میں یونین پریشد کے چیئرمین، میونسپلٹی کے میئر یا سٹی کارپوریشن کے وارڈ کونسلر جاری کرتے ہیں، اور زمین کے انتقال میں استعمال ہوتی ہے۔[7] اگست 2026 میں لیلیٰ شاہد بنام بنگلہ دیش میں ہائی کورٹ ڈویژن نے قرار دیا کہ جب دو دعوے دار وراثت پر متنازع ہوں تو یہ حقائق کا سوال ہے جو دیوانی عدالت طے کرے گی، نہ کہ جاری کرنے والا ادارہ یا رِٹ بنچ۔[6]
جانشینی سرٹیفکیٹ
جانشینی ایکٹ 1925 کے حصہ دہم کے تحت جانشینی سرٹیفکیٹ مرحوم کے قرضے اور سیکیورٹیز، جیسے بینک کھاتے، بچت سرٹیفکیٹ اور حصص، وصول کرنے کی عدالتی دستاویز ہے۔ دفعہ 214 کے تحت عدالت جانشینی کے دعوے دار کے حق میں قرض کی ادائیگی کا حکم اس سرٹیفکیٹ، پروبیٹ یا لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن کے بغیر نہیں دے سکتی۔ یہ سرٹیفکیٹ زمین کی ملکیت طے نہیں کرتا۔[5] تفصیل کے لیے ہمارا جانشینی سرٹیفکیٹ کا رہنما دیکھیں۔
| دستاویز | جاری کنندہ | استعمال | حد |
|---|---|---|---|
| وارث سرٹیفکیٹ | یونین پریشد چیئرمین، میئر یا وارڈ کونسلر | انتقال، تقسیم، پنشن | متنازع وراثت میں ناکافی |
| جانشینی سرٹیفکیٹ | ڈسٹرکٹ جج، عموماً جوائنٹ ڈسٹرکٹ جج | بینک کھاتے، حصص، قرضے | زمین کی ملکیت طے نہیں کرتا |
| پروبیٹ | ڈسٹرکٹ جج | وصیت اور وصی کا اختیار ثابت کرنا | مسلم وصیت کے لیے ضروری نہیں |
| رجسٹرڈ تقسیم نامہ | سب رجسٹرار | زمین کی تقسیم اور الگ انتقال | غیر رجسٹرڈ ہو تو ملکیت پر اثر نہیں |
انتقال، تقسیم نامہ اور تقسیم کے مقدمات
فروری 2025 کے سرکلر میں وزارتِ اراضی نے تین راستے واضح کیے: تمام وارث وراثت سرٹیفکیٹ پر مشترکہ انتقال کرا سکتے ہیں اور اس کے لیے تقسیم نامہ ضروری نہیں؛ الگ الگ قطعات کے الگ انتقال کے لیے رجسٹرڈ تقسیم نامہ چاہیے؛ اور موجودہ کھاتے کو الگ کھاتوں میں بانٹنے کے لیے صرف تقسیم نامہ کافی ہے۔[7] مشترکہ انتقال تیز ہے، مگر ہر وارث کو ہر قطعے کا شریک مالک چھوڑ دیتا ہے۔
وراثت میں ملی غیر منقولہ جائیداد کی تقسیم کی دستاویز رجسٹریشن ایکٹ 1908 کی دفعہ 17(1)(f) کے تحت لازمی طور پر رجسٹر ہوتی ہے، اور دفعہ 49 کے تحت غیر رجسٹرڈ دستاویز ملکیت پیدا یا ختم نہیں کر سکتی۔[8] اس لیے خاندانی "بٹوارہ نامہ" کو رجسٹر کرانا ضروری ہے۔ بنگلہ دیش میں وراثتی قانون کے تحت فروخت سے پہلے انتقال اور رجسٹرڈ تقسیم مکمل کرنا سب سے محفوظ ترتیب ہے۔
لازمی ثالثی
لیگل ایڈ سروسز (ترمیمی) ایکٹ 2026 کے تحت 31 جولائی 2026 سے تیس نوٹیفائیڈ اضلاع میں عائلی معاملات اور سول جج کے دائرے کے تقسیم کے تنازعات مقدمے سے پہلے لیگل ایڈ ثالثی سے گزرتے ہیں؛ ڈھاکہ ان اضلاع میں شامل نہیں۔ ثالثی کا وقت مدتِ سماعت سے خارج ہوتا ہے اور تصفیہ ڈگری کی حیثیت رکھتا ہے۔[9] مقدمہ دائر کرنے سے پہلے متعلقہ ضلع کی حیثیت جانچ لیں۔

بنگلہ دیش میں وراثتی قانون اور پاکستان میں مقیم وارث
بیرونِ ملک رہنا وارث کا حصہ نہیں بدلتا؛ بنگلہ دیش میں وراثتی قانون مرحوم کا ذاتی قانون ہے، وارث کی رہائش نہیں۔ بدلتا صرف یہ ہے کہ وارث کارروائی کیسے کرے۔ زیادہ تر وارث بنگلہ دیش میں کسی رشتہ دار یا وکیل کو مختار نامہ دیتے ہیں، جو اسلام آباد میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن یا کراچی میں ڈپٹی ہائی کمیشن میں دستخط ہوتا ہے۔
بیرونِ ملک تیار مختار نامے کے لیے پاور آف اٹارنی رولز 2015 کا قاعدہ 10 مقررہ مراحل رکھتا ہے: بنگلہ دیش پہنچنے کے بعد وزارتِ خارجہ کی تصدیق، کلکٹر کا اسٹامپ اور زمین کی صورت میں سب رجسٹرار کے پاس اندراج۔ دسمبر 2025 میں ہائی کورٹ ڈویژن نے قرار دیا کہ خزانے کی تاخیر مختار کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتی۔[14] یکم جنوری 2026 سے رجسٹریشن ایکٹ کی دفعہ 26 بیرونِ ملک تیار دستاویز کو بنگلہ دیش پہنچنے کے چھ ماہ کے اندر پیش کرنے کی اجازت دیتی ہے۔[11]
پاکستانی دستاویزات اور اپوسٹل
اپوسٹل کنونشن پاکستان کے لیے 9 مارچ 2023 سے اور بنگلہ دیش کے لیے 30 مارچ 2025 سے نافذ ہے۔[13] [12] بنگلہ دیش کی رکنیت پر اعتراض کرنے والی بارہ ریاستوں کی فہرست میں پاکستان شامل نہیں، اس لیے پاکستانی سرکاری دستاویزات، جیسے وفات یا نکاح کے سرٹیفکیٹ، عموماً اپوسٹل سے قابلِ استعمال ہونی چاہییں۔[12] عملاً بعض دفاتر اب بھی اضافی تصدیق مانگتے ہیں، اس لیے وصول کرنے والے ادارے سے پہلے پوچھ لیں۔ تفصیل ہمارے اپوسٹل اور مختار نامہ ٹول میں ہے۔

جائیداد کی منتقلی کے مراحل
ذاتی قانون جو بھی ہو، وفات سے قابلِ فروخت ملکیت تک کی ترتیب ملتی جلتی ہے۔ بنگلہ دیش میں وراثتی قانون کے تحت ذیل کے مراحل اس طریقے کی عکاسی کرتے ہیں جس سے ہم سرحد پار خاندانوں کے ترکے سنبھالتے ہیں۔
ذاتی قانون طے کریں
مرحوم کا مذہب اور لاگو قانون واضح کریں اور ہر حصے کا تحریری حساب تیار کریں۔
ترکے کی فہرست بنائیں
زمین، فلیٹ، بینک کھاتے، بچت سرٹیفکیٹ، حصص، قرض اور غیر ادا شدہ مہر درج کریں۔
وارثوں کی مکمل فہرست
بیٹیوں، بیوہ، دوسری بیوی اور یتیم پوتوں سمیت ہر وارث شامل کریں۔
درست سرٹیفکیٹ لیں
انتقال کے لیے وارث سرٹیفکیٹ، بینک اور حصص کے لیے عدالت سے جانشینی سرٹیفکیٹ۔
مختار نامہ ترتیب دیں
پاکستان میں بنگلہ دیشی مشن میں دستخط، پھر ڈھاکہ میں تصدیق، اسٹامپ اور ضرورت ہو تو رجسٹریشن۔
تقسیم رجسٹر کرائیں
وارثوں کے اتفاق سے تقسیم نامہ تیار کر کے سب رجسٹرار کے پاس رجسٹر کرائیں۔
انتقال مکمل کریں
اسسٹنٹ کمشنر (اراضی) سے مشترکہ یا الگ انتقال کرائیں اور زمین کا ٹیکس ادا کریں۔
عام غلطیاں یہ ہیں: غلط ذاتی قانون کے تحت حساب، بیٹیوں، بیوہ یا یتیم پوتوں کو فہرست سے نکال دینا، غیر رجسٹرڈ بٹوارہ نامے پر انحصار، بینک کھاتوں کے لیے وارث سرٹیفکیٹ کو کافی سمجھنا، اور انتقال سے پہلے فروخت کا معاہدہ۔ TRW کی وراثت اور جانشینی کی منصوبہ بندی کی پریکٹس اور سرحد پار عائلی معاملات کی پریکٹس ایسے ترکوں میں معاونت کرتی ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
بنگلہ دیش میں وراثتی قانون کس بنیاد پر لاگو ہوتا ہے؟
بیوی کو شوہر کے ترکے سے کتنا ملتا ہے؟
کیا بیٹی کو بیٹے کا آدھا ملتا ہے؟
جب بیٹے اور بیٹیاں ساتھ وارث ہوں تو ہر بیٹے کو ہر بیٹی سے دوگنا ملتا ہے۔ اکیلی بیٹی نصف اور دو یا زیادہ بیٹیاں دو تہائی پاتی ہیں۔[3]
کیا یتیم پوتے وارث ہوتے ہیں؟
جی ہاں۔ 1961 کے آرڈیننس کی دفعہ 4 انہیں وہ حصہ دیتی ہے جو ان کے فوت شدہ والد یا والدہ کو ملتا۔[1]
کیا مسلم وصیت کے لیے پروبیٹ ضروری ہے؟
وارث سرٹیفکیٹ اور جانشینی سرٹیفکیٹ میں کیا فرق ہے؟
کیا انتقال کے لیے رجسٹرڈ تقسیم نامہ ضروری ہے؟
کیا تقسیم کے مقدمے سے پہلے ثالثی لازم ہے؟
31 جولائی 2026 سے نوٹیفائیڈ تیس اضلاع میں ہاں؛ ڈھاکہ ان میں شامل نہیں۔[9]
پاکستان میں رہنے والا وارث کیسے کارروائی کرے؟
بنگلہ دیشی مشن میں مختار نامہ دے کر، جس کی ڈھاکہ میں وزارتِ خارجہ تصدیق اور کلکٹر اسٹامپ کرے، اور زمین کی صورت میں رجسٹریشن ہو۔[14]
ماخذات کا اندراج
بنیادی قانونی و ضابطہ جاتی ماخذات
مواد کی جانچ 24 اکتوبر 2026 کو کی گئی۔ کسی شق پر انحصار سے پہلے موجودہ سرکاری متن کی تصدیق کریں۔
- Muslim Family Laws Ordinance 1961 (sections 3 and 4) — Laws of Bangladesh
- Muslim Personal Law (Shariat) Application Act 1937 — Laws of Bangladesh
- The Quran, Surah an-Nisa 4:11–12 (shares of children, parents, spouses and siblings)
- The Daily Star, 28 July 2020 — The legal rights of Muslim heirs
- Succession Act 1925 (Parts V, VI, VIII, IX and X) — Laws of Bangladesh
- Supreme Court of Bangladesh, HCD — Laila Shahed v Bangladesh, Writ Petition No. 13635 of 2024 (3 August 2026)
- Dhaka Tribune / BSS, 17 February 2025 — Govt clarifies mutation issue for inherited land
- Registration Act 1908 (sections 17 and 49) — Laws of Bangladesh
- Legal Aid Services Act 2000 as amended by Act No. 45 of 2026, with S.R.O. 288-Law/2026 — Bangla text, Bangladesh Code mirror
- The Financial Express, September 2026 — JS passes bills including the Transfer of Property (Amendment) Bill
- Registration (Amendment) Act 2026 (Act No. 14 of 2026) — Bangla text, Bangladesh Code mirror
- HCCH — Apostille Convention status table (Bangladesh accession and objections)
- Ministry of Foreign Affairs, Pakistan, 9 March 2023 — Pakistan's accession to the Apostille Convention
- High Court Division, Md Shah Alam v Government of Bangladesh, Writ Petition No 3890 of 2025 (7 December 2025)
TRW کی معاونت
معلومات سے واضح اگلے قدم تک
TRW پاکستان اور دیگر ممالک میں مقیم خاندانوں کو فرائض کے حساب، جانشینی سرٹیفکیٹ، پروبیٹ، تقسیم، انتقال اور مختار نامے میں معاونت فراہم کرتی ہے۔ مشاورت بک کریں یا ترکے کے جائزے کے لیے ڈھاکہ میں ہمارے وکلا سے رابطہ کریں۔