TRW Insight / بنگلہ دیش
ویزا داخلے کی اجازت دیتا ہے، کام کی اجازت صرف پرمٹ دیتا ہے۔ اگست 2026 سے زیادہ تر پرمٹ انویسٹ بنگلہ دیش جاری کرتا ہے، اور ویزا، تنخواہ اور روانگی سب اسی پر منحصر ہیں، اس لیے ترتیب کی ہر غلطی روانگی کے وقت سامنے آتی ہے۔
بنگلہ دیش ورک پرمٹ: پاکستانی ملازم پر لاگو 2026 کا قانونی ڈھانچہ
کسی پاکستانی مینیجر یا انجینئر کے لیے بنگلہ دیش کا ویزا کام شروع کرنے کے لیے کافی نہیں۔ قانون داخلے اور کام کی اجازت کو الگ رکھتا ہے، اور بنگلہ دیش ورک پرمٹ وہ محور ہے جس پر ویزا کی توسیع، تنخواہ کی منتقلی اور واپسی پر بچت کی ترسیل ٹکی ہے۔ ہر تقرری پانچ نظاموں پر کھڑی ہوتی ہے: ویزا پالیسی، مجاز ادارے کا پرمٹ، بنگلہ دیش لیبر ایکٹ 2006 (Bangladesh Labour Act 2006)، انکم ٹیکس ایکٹ 2023 اور بنگلہ دیش بینک کے زرِ مبادلہ کے قواعد۔
یہ رہنما ان پاکستانی کمپنیوں کے لیے ہے جو اپنی بنگلہ دیشی ذیلی کمپنی یا منصوبے پر عملہ بھیجتی ہیں، اور ان پیشہ ور افراد کے لیے جو وہاں ملازمت قبول کر رہے ہیں۔

خلاصہ: غیر ملکی صرف کام کی کیٹیگری کے ویزا اور مجاز ادارے کے پرمٹ کے ساتھ بنگلہ دیش میں کام کر سکتا ہے۔ زیادہ تر کمپنیوں کے لیے یہ ادارہ اب انویسٹ بنگلہ دیش ہے۔ درخواست پہلی آمد کے 15 کاری دنوں میں دینی ہوتی ہے۔ لیبر ایکٹ غیر ملکی "کارکن" کو بھی تحفظ دیتا ہے، مگر زیادہ تر سینئر عملہ اس سے باہر ہے۔ خالص تنخواہ کا 80 فیصد سال کے دوران باہر بھیجا جا سکتا ہے۔
اہم نکتہ: پرمٹ ہی کلید ہے۔ ویزا اسی کی مدت تک بڑھتا ہے، بینک اسی میں درج مراعات کے مطابق تنخواہ بھیجتا ہے، اور بچت تبھی منتقل ہوتی ہے جب معاہدہ منظور شدہ ہو۔ پرمٹ ختم ہو تو ویزا، تنخواہ اور روانگی تینوں رک جاتے ہیں۔
ایک نظر میں
نیا ادارہ
اگست 2026 سے انویسٹ بنگلہ دیش نے BIDA اور BEZA کی جگہ لی ہے۔
15 کاری دن
پہلی آمد سے پرمٹ کی درخواست کی مہلت۔
14 دن میں اندراج
پاکستان سے 90 دن یا زیادہ کے ویزا پر آنے والوں کے لیے۔
183 دن
اتنا قیام ٹیکس رہائش بناتا ہے؛ غیر مقیم پر 30 فیصد۔
80/20
تنخواہ کا 80 فیصد سال میں، 20 فیصد تشخیص کے بعد۔
فہرستِ مضامین
بنگلہ دیش ورک پرمٹ اور انویسٹ بنگلہ دیش ایکٹ 2026
انویسٹ بنگلہ دیش ایکٹ 2026 (ایکٹ نمبر 104) کی دفعہ 66 نے BIDA، BEZA اور پی پی پی اتھارٹی کے قوانین منسوخ کیے اور ان کے تحت کیے گئے اقدامات کو برقرار رکھا۔[1] انویسٹ بنگلہ دیش نے 23 اگست 2026 کو کام شروع کیا۔[2] دفعہ 6 کے تحت اس کے کاموں میں غیر ملکی ماہرین کی تقرری کی شرائط طے کرنا، ویزا کی سفارش اور ورک پرمٹ دینا شامل ہے۔ پرانے پرمٹ برقرار ہیں اور BanglaBiz پلیٹ فارم پر درخواستیں جاری ہیں۔[1] [2]
کون سا ادارہ پرمٹ جاری کرتا ہے
ادارے کا تعین آجر کے مقام سے ہوتا ہے۔ عام کمپنیاں، شاخیں اور رابطہ دفاتر انویسٹ بنگلہ دیش سے، ای پی زیڈ یونٹس BEPZA سے، ہائی ٹیک پارک کی کمپنیاں اپنی اتھارٹی سے اور این جی اوز این جی او افیئرز بیورو سے رجوع کرتی ہیں۔[3] جس پاکستانی گروپ کے ادارے کئی مقامات پر ہوں، اسے ہر ادارے کے لیے الگ پرمٹ چاہیے۔
پہلے ویزا: پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا پالیسی 2026
ویزا پالیسی 2026 کا جو متن امیگریشن ویب سائٹ پر شائع ہے، وہ 2006 کی پالیسی کی جگہ لیتا ہے اور فوری نفاذ کا ذکر کرتا ہے؛ ہمیں گزٹ میں اس کی اشاعت نظر نہیں آئی۔[3] آمد پر ویزا کی ملکی فہرست میں پاکستان شامل نہیں، اس لیے پاکستانی ملازم کو اسلام آباد میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن یا کراچی میں ڈپٹی ہائی کمیشن سے پہلے ویزا لینا ہوگا۔[3]
جنوری 2025 میں پاکستانی درخواست دہندگان کے لیے ڈھاکہ سے اضافی کلیئرنس کی شرط ختم کرنے اور آن لائن درخواست کی رپورٹس آئیں، مگر یہ نرمی پرمٹ کی جگہ نہیں لیتی۔[13]
کام کی کیٹیگری اور 15 دن کی مہلت
E2 کیٹیگری کارخانوں، شاخوں اور منصوبوں میں ماہرین، ہنرمند کارکنوں، مشیروں اور ٹھیکیداروں کے لیے ہے؛ E3 تنصیب، آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے، ہر قیام کی حد 90 دن۔ کام کے ویزا والے کے پاسپورٹ پر درج ہوتا ہے کہ پہلی آمد کے 15 کاری دنوں میں پرمٹ کی درخواست دی جائے۔[3]
بزنس ویزا پر کام ممنوع
بزنس ویزا اور زیرِ کفالت افراد کے ویزا پر "بنگلہ دیش میں ملازمت ممنوع" درج ہوتا ہے، اور داخلے کے بعد کیٹیگری صرف آمد پر ویزا کی صورت میں بدلی جا سکتی ہے۔[3] چونکہ پاکستانی یہ سہولت نہیں رکھتے، بزنس ویزا پر مشین چالو کرنے بھیجا گیا ٹیکنیشن غیر قانونی کام کرتا ہے اور اسے واپس جا کر نیا ویزا لینا پڑے گا۔ تفصیل ہمارے انویسٹر ویزا رہنما میں ہے۔
پاکستان سے آنے والوں کے لیے اندراج
پالیسی کی لازمی شرط نمبر 6 کے تحت بھارت یا پاکستان سے 90 دن یا زیادہ کے ویزا پر آنے والے کو آمد کے 14 دن میں داخلے کی بندرگاہ پر امیگریشن حکام کے پاس اندراج کرانا ہوتا ہے؛ دوسرے ممالک کے شہری مستثنیٰ ہیں۔[3] اسے پرمٹ کی مہلت کے ساتھ ایک ہی چیک لسٹ میں رکھیں۔
بنگلہ دیش ورک پرمٹ کی دستاویزات، فیس اور سیکیورٹی کلیئرنس
BIDA کی ہدایات، جو انویسٹ بنگلہ دیش کو ورثے میں ملیں، مقامی اور غیر ملکی عملے کا تناسب صنعتی منصوبے میں ابتدا میں 10:1، پیداوار کے بعد 20:1 اور شاخوں میں 5:1 رکھتی ہیں؛ نئی اتھارٹی نے انہیں دوبارہ جاری کیا یا نہیں، ہم تصدیق نہیں کر سکے۔[6] فیس 5,000 ٹکا فی شخص سالانہ ہے اور سروس کا وقت 16 کاری دن، جو بین الوزارتی کمیٹی کی منظوری سے مشروط ہے۔[5]
فائل میں تنخواہ اور مراعات پر بورڈ کی قرارداد، تقرر نامہ، عملے کا گوشوارہ، کمپنی کا ٹیکس کلیئرنس اور تربیت پانے والے مقامی ملازمین کی فہرست شامل ہوتی ہے۔ شاخوں، مشترکہ منصوبوں اور مکمل غیر ملکی ملکیت کی کمپنیوں کو کم از کم 50,000 ڈالر کی منتقلی کا ثبوت دینا ہوتا ہے۔[5] رقم وہی لکھیں جو واقعی ادا ہوگی۔
سیکیورٹی کلیئرنس کی الگ مہلت
1 اکتوبر 2025 سے سیکیورٹی کلیئرنس صرف ون اسٹاپ پورٹل پر مانگی جاتی ہے؛ مکمل درخواست کے 21 کاری دن میں اعتراض نہ آئے تو منظور سمجھی جاتی ہے، اور پرمٹ میں درج مدت میں درخواست نہ دینے پر پرمٹ کالعدم ہو جاتا ہے۔[7] عملی طور پر یہی سب سے زیادہ بھولا جانے والا قدم ہے، کیونکہ پرمٹ کا خط آتے ہی فائل بند سمجھ لی جاتی ہے۔
پاکستانی دستاویزات اور اپوسٹیل
پاکستان کے لیے اپوسٹیل کنونشن 9 مارچ 2023 سے اور بنگلہ دیش کے لیے 30 مارچ 2025 سے نافذ ہے، اور بنگلہ دیش پر اعتراض کرنے والے ممالک میں پاکستان شامل نہیں۔[4] اس لیے پیرنٹ کمپنی کی قرارداد یا نکاح نامہ جیسی پاکستانی سرکاری دستاویز اصولاً اپوسٹیل کے ساتھ قابلِ قبول ہے، تاہم عملی قبولیت یکساں نہیں، لہٰذا وصول کنندہ دفتر سے پوچھ لیں۔ دیکھیں ہمارا اپوسٹیل رہنما۔

کیا لیبر ایکٹ پاکستانی ملازم کو تحفظ دیتا ہے؟
ہاں، دوسروں کی طرح۔ لیبر ایکٹ کی دفعہ 2(65) میں "کارکن" کی تعریف، جیسا کہ 2026 میں بدلی گئی، ہر اجرت پر کام کرنے والے کو شامل کرتی ہے اور قومیت کا دخل نہیں؛ استثنا صرف اس کا ہے جسے تحریری طور پر انتظامی یا نگرانی کی ذمہ داری دی گئی ہو۔[8] جنرل مینیجر عموماً تعریف سے باہر ہے، بشرطیکہ تقرر نامہ واقعی یہ اختیار دے؛ صرف عہدہ کافی نہیں۔
2026 کی ترامیم
بنگلہ دیش لیبر (ترمیمی) ایکٹ 2026، یعنی ایکٹ نمبر 43، 10 اپریل 2026 سے نافذ ہے۔ اس نے زچگی کی چھٹی 120 دن اور تہواروں کی تعطیلات 13 دن کیں، یونین کی حدیں بدلیں، بلیک لسٹنگ پر پابندی لگائی اور ورکرز پارٹیسپیشن فنڈ کی سالانہ مساوی تقسیم لازم کی۔[9] ای پی زیڈ میں 2019 کا خصوصی لیبر ایکٹ لاگو ہوتا ہے۔
سینئر عملے کے لیے معاہدہ ہی قانون
جو ملازم تعریف سے باہر ہو، اس کا معاہدہ بنگلہ دیش کے لیے لکھیں، لاہور کے ہیڈ آفس کے فارم سے نقل نہ کریں۔ پرمٹ رکھنے والے ادارے کو آجر لکھیں، مدت پرمٹ کے سالانہ دور سے جوڑیں اور تنخواہ کا ہر جزو درج کریں، کیونکہ بینک انہی کے مطابق رقم بھیجتا ہے۔[12] ملازمت کے بعد مسابقت کی پابندیاں کنٹریکٹ ایکٹ 1872 کی دفعہ 27 کے تحت کمزور ہیں۔ تفصیل ہمارے انگریزی رہنما میں ہے۔
انکم ٹیکس اور پاکستان کے ساتھ ٹیکس معاہدہ
انکم ٹیکس ایکٹ 2023 کی دفعہ 2(45) کے تحت فرد مقیم ہے اگر ٹیکس سال میں 183 دن یا زیادہ رہے، یا 90 دن یا زیادہ رہے اور گزشتہ چار برسوں میں 365 دن رہ چکا ہو۔ دفعہ 27 کے تحت بنگلہ دیش میں کیے گئے کام کی آمدنی وہیں پیدا شدہ ہے، خواہ ادائیگی کراچی میں ہو۔[10] ٹیکس سال جولائی سے جون ہے، اس لیے مارچ میں آنے والا پہلے سال غیر مقیم ہو سکتا ہے۔
مقیم غیر ملکی پر عام سلیب لاگو ہیں، 2026-27 میں پہلے 4,00,000 ٹکا پر چھوٹ کے ساتھ، جبکہ غیر مقیم پر بغیر چھوٹ کے 30 فیصد۔[11] دفعہ 86 کے تحت آجر تنخواہ سے ٹیکس کاٹتا ہے، اور بینک کے بغیر ادا کی گئی تنخواہ خرچ نہیں مانی جاتی۔[10] ویزا کی توسیع کے لیے ٹیکس نمبر اور انکم ٹیکس سرٹیفکیٹ درکار ہیں۔[3] این بی آر کی دوہرے ٹیکس معاہدوں کی فہرست میں پاکستان شامل ہے؛ ریلیف خود بخود نہیں ملتا، اس لیے معاہدے کا متن اور رہائش کا ثبوت پہلے جانچیں۔[14]

تنخواہ اور بچت کی پاکستان منتقلی
بنگلہ دیش بینک کے سرکلر FEPD-1 نمبر 40 (30 ستمبر 2026) کے مطابق بینک غیر ملکی کی ٹیکس کے بعد خالص آمدنی کا 80 فیصد تک سال کے دوران بھیج سکتے ہیں، اور باقی 20 فیصد ٹیکس تشخیص کے بعد۔ آجر کا سرٹیفکیٹ صرف بنگلہ دیش ورک پرمٹ میں درج مراعات شمار کرتا ہے۔[12] ہم سرکلر کا مکمل متن نہیں دیکھ سکے، اس لیے اپنے بینک سے تصدیق کریں۔
مستقل روانگی پر حقیقی بچت، پراویڈنٹ فنڈ اور گریجویٹی منتقل ہو سکتی ہے، بشرطیکہ وہ مجاز ادارے کے منظور شدہ معاہدے میں درج ہوں؛ اس سے باہر کی ادائیگی کے لیے منظوری چاہیے۔[12]
ملازمت کا خاتمہ اور بنگلہ دیش ورک پرمٹ کی منسوخی
اگر ملازم مستقل "کارکن" ہو تو دفعہ 26 کے تحت آجر بدسلوکی کے علاوہ کسی وجہ سے ملازمت ختم کر سکتا ہے: ماہانہ اجرت والے کو 120 دن اور دوسروں کو 60 دن کا نوٹس یا اس کے بدلے اجرت، اور ہر مکمل سال کے بدلے 30 دن کا معاوضہ یا گریجویٹی، جو زیادہ ہو۔ واجبات 30 کاری دنوں میں ادا ہونے چاہییں۔[8]
ملازمت ختم ہونے پر بنگلہ دیش ورک پرمٹ منسوخ کرائیں؛ فائل میں دونوں کے ٹیکس کلیئرنس، استعفیٰ، بورڈ کی قرارداد اور روانگی کی مہر والا صفحہ ہوتا ہے۔[5] واپسی کا ارادہ رکھنے والا غیر مستقل رہائشی ٹیکس کلیئرنس یا استثنا سرٹیفکیٹ کے بغیر ملک نہیں چھوڑ سکتا۔[10] زائد قیام پر پہلے 15 دن 1,000 ٹکا یومیہ، 90 دن تک 2,000 ٹکا اور پھر 3,000 ٹکا جرمانہ ہے۔[3]

غیر ملکی ملازم کی تقرری کے مراحل
ہر اجازت پچھلی پر منحصر ہے، اس لیے ترتیب اہم ہے۔
تناسب اور بجٹ طے کریں
امیدوار چننے سے پہلے مقامی و غیر ملکی عملے کا تناسب اور 50,000 ڈالر کی منتقلی جانچیں۔
معاہدہ منظور کریں
تنخواہ کے ہر جزو کے ساتھ ملازمت کا معاہدہ اور بورڈ کی قرارداد تیار کریں۔
سفارش حاصل کریں
انویسٹ بنگلہ دیش، BEPZA یا ہائی ٹیک پارک اتھارٹی سے ویزا کی سفارش لیں۔
مشن سے درست ویزا لیں
اسلام آباد یا کراچی کے بنگلہ دیشی مشن سے کام کی کیٹیگری کا ویزا لیں، بزنس ویزا نہیں۔
14 دن میں اندراج کرائیں
90 دن یا زیادہ کے ویزا پر آمد کے بعد امیگریشن حکام کے پاس اندراج کرائیں۔
15 کاری دن میں پرمٹ
پہلی آمد سے مدت گنیں اور مکمل فائل ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر جمع کرائیں۔
سیکیورٹی کلیئرنس دیں
پرمٹ میں درج مدت کے اندر ون اسٹاپ پورٹل پر درخواست دیں۔
ٹیکس اور توسیع
ٹیکس نمبر لیں، ماہانہ ٹیکس کاٹیں، بینک کے ذریعے تنخواہ دیں اور وقت پر توسیع مانگیں۔
| نظام | بنیادی قانون | ادارہ | کیا طے کرتا ہے | 2026 کا نکتہ |
|---|---|---|---|---|
| امیگریشن | ویزا پالیسی 2026 | وزارتِ داخلہ اور محکمۂ امیگریشن و پاسپورٹ | ویزا کیٹیگری، توسیع، زائد قیام | پاکستانیوں کے لیے 14 دن میں اندراج |
| کام کی اجازت | انویسٹ بنگلہ دیش ایکٹ 2026 اور شعبہ جاتی قوانین | انویسٹ بنگلہ دیش، BEPZA، ہائی ٹیک پارک اتھارٹی | پرمٹ، تناسب، سیکیورٹی کلیئرنس | BIDA اور BEZA کا انضمام |
| محنت کا تحفظ | لیبر ایکٹ 2006؛ ای پی زیڈ لیبر ایکٹ 2019 | لیبر انسپکشن، لیبر کورٹ، BEPZA | نوٹس، معاوضہ، چھٹیاں، برطرفی | ایکٹ نمبر 43 (2026) کی ترامیم |
| معاہدہ | کنٹریکٹ ایکٹ 1872 | دیوانی عدالتیں یا طے شدہ فورم | سینئر عملے کی شرائط | ملازمت کے بعد مسابقت کی پابندی کمزور |
| ٹیکس اور زرِ مبادلہ | انکم ٹیکس ایکٹ 2023؛ سرکلر FEPD-1 نمبر 40 | این بی آر اور بنگلہ دیش بینک | کٹوتی، رہائش، ترسیل، کلیئرنس | پاکستان کے ساتھ ٹیکس معاہدہ |
عام غلطیاں متوقع ہیں: دیر سے درخواست، 14 دن کا اندراج نہ کرانا، سیکیورٹی کلیئرنس بھول جانا، بزنس ویزا پر ٹیکنیشن بھیجنا، نقد تنخواہ اور پرمٹ منسوخ کیے بغیر روانگی۔ ماہانہ جائزے والا رجسٹر ان سب سے بچاتا ہے۔ TRW کی بزنس امیگریشن پریکٹس یہ ریکارڈ سنبھالتی ہے، اور ایمپلائمنٹ کمپلائنس پریکٹس معاہدوں کا جائزہ لیتی ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا پاکستانی شہری بزنس ویزا پر کام کر سکتا ہے؟
نہیں۔ بزنس ویزا پر ملازمت ممنوع ہے؛ E2 یا E3 ویزا اور پرمٹ چاہیے۔[3]
کیا پاکستانیوں کو آمد پر ویزا ملتا ہے؟
شائع شدہ پالیسی کی ملکی فہرست میں پاکستان شامل نہیں، اس لیے ویزا مشن سے پہلے لیں۔[3]
انضمام کے بعد بنگلہ دیش ورک پرمٹ کون جاری کرتا ہے؟
زیادہ تر کمپنیوں کے لیے انویسٹ بنگلہ دیش، جبکہ BEPZA اور ہائی ٹیک پارک اتھارٹی اپنے دائرے میں۔[1]
پرمٹ کی درخواست کب دینی ہے؟
پہلی آمد کے 15 کاری دنوں میں۔[3]
14 دن کا امیگریشن اندراج کس پر لاگو ہے؟
پاکستان یا بھارت سے 90 دن یا زیادہ کے ویزا پر آنے والوں پر۔[3]
پرمٹ کی فیس کتنی ہے؟
5,000 ٹکا فی شخص سالانہ؛ سروس کا وقت 16 کاری دن۔[5]
کیا لیبر ایکٹ غیر ملکیوں پر لاگو ہے؟
ہاں اگر وہ "کارکن" ہوں؛ تحریری انتظامی ذمہ داری والے باہر ہیں۔[8]
ملازم ٹیکس کے لحاظ سے کب مقیم ہوتا ہے؟
سال میں 183 دن، یا 90 دن اگر گزشتہ چار برسوں میں 365 دن رہ چکا ہو۔[10]
کیا پاکستان اور بنگلہ دیش کا ٹیکس معاہدہ ہے؟
ہاں، این بی آر کی فہرست میں پاکستان شامل ہے؛ ریلیف معاہدے کے متن پر منحصر ہے۔[14]
تنخواہ کا کتنا حصہ پاکستان بھیجا جا سکتا ہے؟
خالص آمدنی کا 80 فیصد سال کے دوران اور باقی تشخیص کے بعد۔[12]
ماخذات کا اندراج
بنیادی قانونی و ضابطہ جاتی ماخذات
مواد کی جانچ 24 اکتوبر 2026 کو کی گئی۔ کسی شق پر انحصار سے پہلے موجودہ سرکاری متن کی تصدیق کریں۔
- Invest Bangladesh Act 2026 (Act No. 104 of 2026) — Laws of Bangladesh
- Invest Bangladesh, 23 August 2026 — Invest Bangladesh begins journey as apex investment promotion agency
- Ministry of Home Affairs — Visa Policy 2026 (text published on the Special Branch immigration website)
- HCCH — Apostille Convention status table (Pakistan in force 9 March 2023; Bangladesh 30 March 2025)
- BIDA — Work permit (new): documents, fee and service time
- BIDA — Restrictions and ratios for employing foreign workers
- Invest Bangladesh (BIDA), 30 September 2025 — Security clearance for work permits now fully digital
- Bangladesh Labour Act 2006 (Act No. 42 of 2006), consolidated text — Laws of Bangladesh
- Bangladesh Labour (Amendment) Act 2026 (Act No. 43 of 2026), Bangla text — Bangladesh Code mirror
- Income Tax Act 2023, authentic English text (SRO 404-Law/2025) — National Board of Revenue
- PwC Worldwide Tax Summaries — Bangladesh: Taxes on personal income
- Bangladesh Bank, FEPD-1 Circular No. 40 (30 September 2026) — outward current account remittances
- Daily Observer, 13 January 2025 — Bangladesh simplifies visa process for Pakistani nationals
- National Board of Revenue — Double Taxation Avoidance Agreements (Bangladesh and Pakistan listed)
TRW کی معاونت
معلومات سے واضح اگلے قدم تک
TRW پاکستانی آجروں کے لیے بنگلہ دیش میں غیر ملکی ملازمین کی فائل شروع سے آخر تک سنبھالتی ہے: سفارش اور ویزا، ورک پرمٹ اور سیکیورٹی کلیئرنس، ملازمت کے معاہدے، ٹیکس اور تنخواہ کی منتقلی، اور ملازمت کا خاتمہ و روانگی۔ مشاورت بک کریں یا ڈھاکہ میں ہماری ٹیم سے رابطہ کریں۔