TRW Insight / بنگلہ دیش
پاکستانی قرض دہندہ کو تجارتی شرائط سے پہلے یہ جاننا ہے کہ منظوری کون دے گا: زیادہ تر صنعتی قرضوں کے لیے انویسٹ بنگلہ دیش، بعض زون کمپنیوں کے لیے بنگلہ دیش بینک، اور پیرنٹ کمپنی کے قرض کے لیے 3 فیصد لاگت والی عمومی اجازت۔
بنگلہ دیش میں غیر ملکی قرض: تجارتی شرائط سے پہلے ریگولیٹری راستہ
بنگلہ دیش میں غیر ملکی قرض کا معاملہ سود کی شرح سے نہیں بلکہ ریگولیٹری راستے سے شروع ہوتا ہے: منظوری کون دیتا ہے، کب منظوری کی ضرورت نہیں، لاگت کی حد کیا ہے، اور رقم واپس کیسے جاتی ہے۔ 2026 میں یہ نظام دو بار بدلا۔ بنگلہ دیش انویسٹمنٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (BIDA) انویسٹ بنگلہ دیش اتھارٹی میں ضم ہوئی، اور ستمبر میں بنگلہ دیش بینک (Bangladesh Bank) نے بیرونی قرض سے متعلق اپنا جامع سرکلر دوبارہ جاری کیا۔
یہ رہنما ان پاکستانی کمپنیوں کے لیے ہے جن کی بنگلہ دیش میں ذیلی کمپنی یا مشترکہ منصوبہ ہے، ان پاکستانی بینکوں کے لیے جو بنگلہ دیشی خریداروں کو مالی سہولت دیتے ہیں، اور ان بنگلہ دیشی کمپنیوں کے لیے جو پاکستانی شراکت داروں سے سرمایہ لیتی ہیں۔

خلاصہ: نجی صنعتی اداروں کے درمیانی اور طویل مدتی بیرونی قرض کے لیے انویسٹ بنگلہ دیش کی پیشگی اجازت لازم ہے، جو اسکروٹنی کمیٹی کی سفارش پر ملتی ہے۔ خصوصی زونز کی غیر رجسٹرڈ کمپنیاں بنگلہ دیش بینک جاتی ہیں۔ ایک سال تک کا تجارتی قرض درآمدی قواعد کے تحت چلتا ہے، اور مکمل غیر ملکی ملکیت والی صنعتی کمپنیاں پیرنٹ کمپنی سے عمومی اجازت کے تحت 3 فیصد لاگت تک قرض لے سکتی ہیں۔
اہم نکتہ: 14 ستمبر 2026 کا FEPD-1 سرکلر نمبر 35 فیصلہ کن ہے: اتھارٹی میں رجسٹرڈ زون کمپنیوں کو اب بنگلہ دیش بینک کی منظوری نہیں چاہیے، اور سابق اقتصادی زونز کی درخواستیں اسکروٹنی کمیٹی کو جاتی ہیں۔ غلط ادارے کو دی گئی درخواست عملاً دی ہی نہیں گئی۔
ایک نظر میں
انویسٹ بنگلہ دیش
نجی صنعتی اداروں کے بیرونی قرض کے لیے پیشگی اجازت۔
بنگلہ دیش بینک
اتھارٹی میں غیر رجسٹرڈ زون کمپنیوں کے قرض کی منظوری۔
تجارتی قرض
ایک سال تک، لاگت بینچ مارک جمع 3 فیصد۔
پیرنٹ قرض
عمومی اجازت، لاگت سالانہ 3 فیصد تک۔
15 فیصد
1981 کے ٹیکس معاہدے میں سود پر ٹیکس کی حد۔
فہرستِ مضامین
بنگلہ دیش میں غیر ملکی قرض: انضمام کے بعد منظوری کون دیتا ہے
قانونی بنیاد فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 ہے، جس کی دفعہ 20(3) کے تحت بنگلہ دیش بینک ہدایات جاری کرتا ہے۔[1] انویسٹ بنگلہ دیش ایکٹ 2026، یعنی ایکٹ نمبر 104، اتھارٹی قائم کرتا ہے، جس نے 23 اگست 2026 سے BIDA، اقتصادی زونز اتھارٹی (BEZA) اور پی پی پی اتھارٹی کی جگہ کام شروع کیا۔[7] [8]
2 ستمبر 2026 کے FEPD-1 سرکلر نمبر 32 کے پیراگراف 28 کے مطابق نجی صنعتی اداروں کی بیرونی قرض کی تمام تجاویز، بشمول سپلائرز کریڈٹ، مالی قرض اور بیرونی منڈی میں قرض کے اجرا، کے لیے انویسٹ بنگلہ دیش کی پیشگی اجازت درکار ہے۔[1] اجازت کے بغیر معاہدہ کاغذ پر قائم رہ سکتا ہے، مگر رقم کی واپسی کا بینکاری راستہ نہیں کھلتا۔
خصوصی زونز کی وضاحت
سرکلر نمبر 32 کا پیراگراف 27 پہلے خصوصی زونز کی ہر کمپنی کے قرض کو بنگلہ دیش بینک کی منظوری سے مشروط کرتا تھا۔ سرکلر نمبر 35 نے اسے بدل دیا: مرکزی بینک صرف اس زون کمپنی کی درخواست دیکھے گا جو اتھارٹی میں رجسٹرڈ نہ ہو، اور سابق اقتصادی زونز کی درخواستیں اسکروٹنی کمیٹی کو جائیں گی۔[2] سرکاری اداروں کو حکومت کی منظوری اور لائسنس یافتہ مالیاتی کمپنیوں کو مرکزی بینک کی پیشگی منظوری الگ سے چاہیے۔[1]
| سہولت | قرض لینے والا | منظوری کا ادارہ | لاگت کی حد | ماخذ |
|---|---|---|---|---|
| درمیانی اور طویل مدتی قرض یا سپلائرز کریڈٹ | نجی صنعتی ادارہ، بشمول سابق اقتصادی زونز کی کمپنیاں | انویسٹ بنگلہ دیش (اسکروٹنی کمیٹی) | معقولیت: ٹریژری شرح جمع معتدل پریمیم | سرکلر 32 پیراگراف 28؛ سرکلر 35 |
| درمیانی اور طویل مدتی قرض | خصوصی زون کی کمپنی جو اتھارٹی میں رجسٹرڈ نہیں | بنگلہ دیش بینک، بینک اور زون اتھارٹی کے ذریعے | ہر کیس کا الگ جائزہ | ترمیم شدہ سرکلر 32 پیراگراف 27 |
| ایک سال تک تجارتی قرض | صنعتی درآمد کنندگان | منظوری نہیں؛ درآمدی قواعد | بینچ مارک جمع 3% | سرکلر 30 اور 10 |
| پیرنٹ کمپنی یا شیئر ہولڈر کا قرض | مکمل غیر ملکی ملکیت والا صنعتی ادارہ | عمومی اجازت کے اندر منظوری نہیں | سالانہ 3% مجموعی | FEID سرکلر 03 |
| سرکاری ادارے کو تجارتی قرض | سرکاری شعبے کا ادارہ | حکومت اور مستقل کمیٹی | منظوری میں طے | سرکلر 32 |
اسکروٹنی کمیٹی درخواست کو کیسے پرکھتی ہے
طریقہ کار 10 دسمبر 1998 کا بورڈ آف انویسٹمنٹ نوٹیفکیشن ہے، جو سرکلر نمبر 32 کے ضمیمے میں دوبارہ شائع ہوا ہے۔[1] ترجیح نئی پیداواری صلاحیت یا توسیع کے لیے قرض کو ملتی ہے، جبکہ تجارتی جائیداد میں سٹے بازی کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ BIDA کی رہنمائی کے مطابق منظوری سرمایہ جاتی اشیا کی درآمد کے لیے ہے، ورکنگ کیپیٹل کے لیے نہیں۔[6]
نوٹیفکیشن پانچ تجزیے مانگتا ہے: تجارتی فزیبلٹی، اپنی آمدنی سے قرض کی ادائیگی کی صلاحیت، لاگت کی مسابقت، شعبے میں طلب اور صلاحیت، اور اسپانسرز کے موجودہ قرضے، جن کی تصدیق مرکزی بینک کا کریڈٹ انفارمیشن بیورو کرے۔[1] جنوری 2024 کی شائع شدہ منظوریوں میں کمیٹی نے منصوبے کی پوری مدت کے لیے 70:30 کے قرض اور ایکویٹی تناسب کی شرط لگائی۔[10] اس تناسب کو درخواست سے پہلے مالیاتی منصوبے میں شامل کریں۔

بنگلہ دیش میں غیر ملکی قرض پر لاگت کی حدیں
سود کی کوئی ایک حد نہیں۔ درخواست کا فارم مؤثر شرح کو اعلان شدہ سالانہ شرح جمع تمام سالانہ فیسوں کے طور پر بیان کرتا ہے۔[1] اتھارٹی کے راستے پر 1998 کا نوٹیفکیشن معقولیت کا امتحان رکھتا ہے: اس کرنسی اور مدت کے ٹریژری بانڈ کی شرح جمع معتدل پریمیم۔[1] قلیل مدتی تجارتی مالیات پر 11 مئی 2026 کے FEPD-1 سرکلر نمبر 10 کے تحت حد بینچ مارک، جیسے SOFR، جمع 3 فیصد پوائنٹس ہے۔[5] پیرنٹ قرض کی عمومی اجازت میں حد سالانہ 3 فیصد ہے۔[3]
پاکستانی اسلامی بینک مرابحہ یا اجارہ کی صورت میں مالیات دیتے ہیں۔ سرکلر نام نہیں بلکہ "مجموعی لاگت" دیکھتے ہیں، اس لیے مارجن یا کرایہ اور فیسیں سالانہ شرح میں دکھائیں۔ سرکلر نمبر 32 بین الاقوامی اسلامی تجارتی مالیاتی کارپوریشن (ITFC) کے حق میں 180 دن تک کے خریدار کریڈٹ پر بینک گارنٹی کی اجازت بھی دیتا ہے۔[1]
قلیل مدتی تجارتی قرض
ایک سال تک کا سپلائر یا خریدار کریڈٹ اتھارٹی کے راستے سے باہر ہے اور 13 اگست 2026 کے FEPD-1 سرکلر نمبر 30 کے درآمدی قواعد کے تحت چلتا ہے۔[1] [4] صنعتی خام مال 270 دن یا کیش کنورژن سائیکل تک، بعض اقسام 360 دن تک، اور مشینری تین سال تک سپلائرز کریڈٹ پر درآمد ہو سکتی ہے۔[4]
کراچی کا برآمد کنندہ جو ڈھاکہ کے خریدار کو دھاگہ یا کیمیکل ادھار پر بیچتا ہے، عموماً اسی راستے پر ہے۔ لیکن عمومی ورکنگ کیپیٹل دینے والی گھومتی سہولت تجارتی قرض نہیں بلکہ بنگلہ دیش میں غیر ملکی قرض ہے اور منظوری مانگتی ہے۔
پاکستانی پیرنٹ کمپنی کا قرض
15 جولائی 2026 کے FEID سرکلر نمبر 03 کے تحت مکمل غیر ملکی ملکیت والے صنعتی ادارے اپنی پیرنٹ کمپنی، ایسوسی ایٹ یا شیئر ہولڈرز سے شرائط کے اندر پیشگی منظوری کے بغیر قرض لے سکتے ہیں۔[3] ایک سے پانچ سال کے قرض صرف سرمایہ جاتی خرچ کے لیے ہیں: بلا لاگت 5 کروڑ ڈالر تک، اور 3 فیصد تک لاگت کے ساتھ 50 لاکھ ڈالر تک۔ قرض کسی بھی وقت ایکویٹی میں بدلا جا سکتا ہے۔[3]
یہ اجازت صرف مکمل غیر ملکی ملکیت والی کمپنیوں کے لیے ہے۔[3] بنگلہ دیشی شراکت دار والا مشترکہ منصوبہ، یا 3 فیصد سے زیادہ لاگت والا قرض، اسکروٹنی کمیٹی کے پاس جاتا ہے۔ لاہور یا کراچی کی جو کمپنی مقامی شراکت دار کے ساتھ ہے، اس کے لیے یہی فرق فیصلہ کن ہے۔

درخواست، رقم کی وصولی اور ادائیگی
فائل میں ضمیمہ "الف" کا فارم، انکارپوریشن اور رجسٹریشن سرٹیفکیٹ، ادائیگی کے شیڈول اور مؤثر شرح والا معاہدہ، فزیبلٹی اسٹڈی، کریڈٹ بیورو کے اقرار نامے اور سرمایہ آنے کا ثبوت شامل ہوتے ہیں۔[1] [6] فیصلے کی کوئی لازمی مدت نہیں، اس لیے منظوری کو قرض کے معاہدے میں پیشگی شرط بنائیں۔ 7 اکتوبر 2026 سے منظور شدہ قرض کی رقم فارن کرنسی اکاؤنٹ میں رکھی جا سکتی ہے، اگلی تین اقساط کے برابر رقم سمیت۔[9]
بنگلہ دیش میں غیر ملکی قرض کی واپسی
سرکلر نمبر 32 کا پیراگراف 29 بینکوں کو منظور شدہ قرض پر سود اور اصل مرکزی بینک سے دوبارہ پوچھے بغیر بھیجنے دیتا ہے، بشرطیکہ ادائیگی اسی نامزد بینک سے ہو جس نے رقم وصول کی، ٹیکس کاٹ کر جمع ہو چکا ہو، اور سپلائرز کریڈٹ میں بل آف انٹری موجود ہو۔[1] قرض لینے والا جو بینک بدل دے یا بل آف انٹری کھو دے، اس کی ترسیل رک جاتی ہے۔
سود پر ٹیکس اور پاکستان بنگلہ دیش ٹیکس معاہدہ
فنانس ایکٹ 2026 کے پیشہ ورانہ خلاصوں کے مطابق غیر مقیم کو ادا کیے گئے سود پر ملکی کٹوتی 20 سے کم ہو کر 10 فیصد ہو گئی، اور مستقل ادارے کے بغیر قرض دہندہ کے لیے یہ حتمی ٹیکس ہے۔[12] پاکستان اور بنگلہ دیش کا دوہرے ٹیکس سے بچاؤ کا معاہدہ 15 اکتوبر 1981 کو ڈھاکہ میں دستخط ہوا، اور اس کا آرٹیکل 12 سود پر ماخذ ملک کا ٹیکس 15 فیصد تک محدود کرتا ہے۔[13] چونکہ ملکی شرح کم ہے، عام پاکستانی بینک کو معاہدے سے اضافی فائدہ نہیں۔
البتہ آرٹیکل 12(3) کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان، حکومت پاکستان، اور شیڈولڈ بینک کے علاوہ سرکاری ملکیت والا مالیاتی ادارہ بنگلہ دیشی سود پر ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔[13] یہ استثنا خود بخود نہیں ملتا؛ ادائیگی سے پہلے قومی بورڈ آف ریونیو (NBR) کا سرٹیفکیٹ لیں۔ "ٹیکس گراس اپ" کی شق لاگت بڑھاتی ہے، اسے درخواست میں ظاہر کریں۔

ضمانتیں اور سرمایہ کاری کا تحفظ
منظور شدہ قرض کے لیے کارپوریٹ یا ذاتی گارنٹی کو بنگلہ دیش بینک کی اجازت نہیں چاہیے، مگر بینک گارنٹی یا اسٹینڈ بائی ایل سی کو خصوصی اجازت اور کم از کم 25 فیصد نقد مارجن چاہیے۔[1] کمپنی کا رہن 21 دن کے اندر رجسٹرار آف جوائنٹ اسٹاک کمپنیز (RJSC) میں رجسٹر نہ ہو تو لیکویڈیٹر اور قرض دہندگان کے خلاف کالعدم ہوتا ہے۔[11]
اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس (UNCTAD) کے مطابق پاکستان بنگلہ دیش دو طرفہ سرمایہ کاری معاہدہ 24 اکتوبر 1995 کو دستخط ہوا مگر نافذ نہیں ہوا۔[14] اس لیے پاکستانی قرض دہندہ کا تحفظ معاہدے کی ثالثی شق، رجسٹرڈ ضمانتوں اور بنگلہ دیشی قانون پر ہے۔ بنگلہ دیش میں غیر ملکی قرض کی دستاویزات میں تنازع کی شق کو رسمی بات نہ سمجھیں۔
بنگلہ دیش میں غیر ملکی قرض کی عام غلطیاں
غلط ادارے میں درخواست؛ لاگت کا غلط امتحان؛ فیسوں یا گراس اپ کو لاگت سے باہر رکھنا؛ ورکنگ کیپیٹل کو سرمایہ جاتی خرچ دکھانا؛ ادائیگی کے بعد بینک بدلنا؛ اور 21 دن کے بعد رہن رجسٹر کرانا۔ یہ سب ٹرم شیٹ کے مرحلے پر روکے جا سکتے ہیں۔
قرض لینے والے اور راستے کی درجہ بندی
انویسٹ بنگلہ دیش، بنگلہ دیش بینک، عمومی اجازت یا تجارتی قرض میں سے درست راستہ طے کریں۔
ٹرم شیٹ کو حد کے مطابق بنائیں
مدت اور مجموعی لاگت کو قابل اطلاق حد سے ملائیں، ٹیکس گراس اپ سمیت۔
تجزیے تیار کریں
فزیبلٹی، قرض کی ادائیگی کی صلاحیت، مسابقت، طلب اور اسپانسرز کے قرضے۔
درخواست جمع کرائیں
ضمیمہ الف، کمپنی کی دستاویزات، فزیبلٹی اور کریڈٹ بیورو کے اقرار نامے۔
منظوری کو پیشگی شرط بنائیں
ایسی آخری تاریخ رکھیں جو سوالات کے ایک دور کی گنجائش دے۔
ضمانتیں رجسٹر کرائیں
رہن 21 دن کے اندر RJSC میں رجسٹر کرائیں۔
ٹیکس سرٹیفکیٹ لیں
معاہدے کی رعایت یا استثنا کے لیے پہلی ادائیگی سے پہلے NBR سے رجوع کریں۔
ادائیگی کی فائل محفوظ رکھیں
منظوری، معاہدہ، شیڈول، رقم کی آمد کا ثبوت، بل آف انٹری اور ٹیکس رسیدیں۔
مزید تفصیل کے لیے ہمارا انگریزی تجزیہ Foreign loan approval in Bangladesh، رہنما Doing business in Bangladesh اور ہمارا بینکاری و مالیات کا شعبہ دیکھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا ہر غیر ملکی قرض کے لیے پیشگی منظوری چاہیے؟
BIDA کے بعد منظوری کون دیتا ہے؟
انویسٹ بنگلہ دیش اتھارٹی اپنی اسکروٹنی کمیٹی کے ذریعے؛ غیر رجسٹرڈ زون کمپنیاں بنگلہ دیش بینک جاتی ہیں۔[2]
کیا سود کی کوئی عددی حد ہے؟
کمیٹی کے راستے پر نہیں؛ شرح ٹریژری شرح جمع معتدل پریمیم کے مقابلے میں معقول ہو۔[1]
تجارتی مالیات پر لاگت کی حد کیا ہے؟
بینچ مارک، جیسے SOFR، جمع سالانہ 3 فیصد پوائنٹس۔[5]
کیا پاکستانی پیرنٹ کمپنی بغیر منظوری قرض دے سکتی ہے؟
ہاں، اگر ذیلی کمپنی مکمل غیر ملکی ملکیت والا صنعتی ادارہ ہو اور قرض FEID سرکلر نمبر 03 کی حدوں میں ہو۔[3]
کیا قرض ورکنگ کیپیٹل کے لیے استعمال ہو سکتا ہے؟
پاکستانی بینک کے سود پر کتنا ٹیکس کٹتا ہے؟
کیا اسٹیٹ بینک آف پاکستان ٹیکس سے مستثنیٰ ہے؟
ہاں، آرٹیکل 12(3) کے تحت، NBR کے سرٹیفکیٹ کے ساتھ۔ یہی حکم حکومت اور بعض سرکاری مالیاتی اداروں پر ہے۔[13]
کیا سرمایہ کاری معاہدہ تحفظ دیتا ہے؟
نہیں، 1995 کا معاہدہ نافذ نہیں ہوا۔[14]
رہن رجسٹر نہ ہو تو کیا ہوتا ہے؟
21 دن میں RJSC میں رجسٹر نہ ہونے والا رہن لیکویڈیٹر اور قرض دہندگان کے خلاف کالعدم ہے۔[11]
ماخذات کا اندراج
بنیادی قانونی و ضابطہ جاتی ماخذات
مواد کی جانچ 24 اکتوبر 2026 کو کی گئی۔ کسی شق پر انحصار سے پہلے موجودہ سرکاری متن کی تصدیق کریں۔
- Bangladesh Bank FEPD-1 Circular No. 32 (2 September 2026) — loans, overdrafts, guarantees and external borrowings
- Bangladesh Bank FEPD-1 Circular No. 35 (14 September 2026) — external borrowing by industrial enterprises in specialised zones
- Bangladesh Bank FEID Circular No. 03 (15 July 2026) — external borrowing from parent companies, associates and shareholders
- Bangladesh Bank FEPD-1 Circular No. 30 (13 August 2026) — consolidated circular on import transactions
- Bangladesh Bank FEPD-1 Circular No. 10 (11 May 2026) — all-in-cost ceiling for short-term trade finance
- BIDA — FAQ: procedure to obtain prior permission to avail a foreign loan (legacy guidance)
- Invest Bangladesh, 23 August 2026 — Invest Bangladesh begins journey as country's apex investment promotion agency
- Invest Bangladesh Act 2026 (Act No. 104 of 2026) — Laws of Bangladesh
- The Business Standard, 7 October 2026 — Bangladesh Bank allows foreign currency accounts to retain approved external loan proceeds
- The Financial Express, 3 January 2024 — Debt-ridden companies cleared to take forex loans
- Companies Act 1994, section 159 (registration of charges) — Laws of Bangladesh
- KPMG in Bangladesh — Bangladesh Tax 2026-2027: Finance Act 2026 and withholding tax from non-residents
- NBR — Bangladesh–Pakistan convention for the avoidance of double taxation (signed at Dacca, 15 October 1981)
- UNCTAD Investment Policy Hub — Bangladesh international investment agreements (Bangladesh–Pakistan BIT 1995: signed, not in force)
TRW کی معاونت
معلومات سے واضح اگلے قدم تک
TRW پاکستانی قرض دہندگان، بینکوں اور بنگلہ دیشی قرض لینے والوں کو منظوری کے راستے کے تعین، اسکروٹنی کمیٹی کی درخواست، قرض اور اسلامی مالیات کے معاہدوں، ضمانتوں کی رجسٹریشن اور ٹیکس معاہدے کے سرٹیفکیٹ میں مشورہ دیتا ہے۔ مشاورت بک کریں یا ڈھاکہ میں ہماری ٹیم سے رابطہ کریں۔











