TRW Insight / بنگلہ دیش
BIDA، BEZA اور PPP اتھارٹی اب ایک ادارہ ہیں، مگر BEPZA اور ہائی ٹیک پارک الگ ہیں۔ پرانی منظوریاں برقرار ہیں، مراعات صرف گزٹ نوٹیفکیشن سے ملتی ہیں، اور پاکستانی سرمایہ کار کو اپنے وعدے تحریری رجسٹریشن میں محفوظ کرنے چاہییں۔
انویسٹ بنگلہ دیش ایکٹ: 2026 میں سرمایہ کاری کا نیا ڈھانچہ
انویسٹ بنگلہ دیش ایکٹ (Invest Bangladesh Act, 2026؛ ایکٹ نمبر 104 بابت 2026) 2010 میں اکنامک زونز کے پروگرام کے آغاز کے بعد بنگلہ دیش کے سرمایہ کاری کے ڈھانچے کی سب سے بڑی اصلاح ہے۔ اس نے چار قوانین منسوخ کیے، بنگلہ دیش انویسٹمنٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (BIDA)، بنگلہ دیش اکنامک زونز اتھارٹی (BEZA) اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (PPPA) کو ختم کیا اور ان کی جگہ ایک ادارہ، انویسٹ بنگلہ دیش اتھارٹی، قائم کیا، جس نے 23 اگست 2026 سے کام شروع کیا۔[2]
جس پاکستانی کمپنی کا بنگلہ دیش میں منصوبہ ہے، یا جس کے پاس BIDA یا BEZA کی پرانی منظوری ہے، اس کے لیے سوال عملی ہے: کیا اب بھی درست ہے، درخواستیں کہاں جائیں، اور نیا قانون سرمایہ کار کو کیا دیتا ہے اور کیا نہیں۔ یہ رہنما 24 اکتوبر 2026 تک قانون کے متن اور سرکاری معلومات کی بنیاد پر جواب دیتا ہے۔

خلاصہ: انویسٹ بنگلہ دیش ایکٹ نے BIDA، BEZA اور PPP اتھارٹی کو وزیرِ اعظم کے دفتر کے تحت ایک اتھارٹی میں ضم کیا۔ سابقہ رجسٹریشن، زونز میں زمین کی الاٹمنٹ، PPP معاہدے اور زیرِ التوا کارروائیاں نئے قانون کے تحت جاری رہتی ہیں۔ BEPZA اور ہائی ٹیک پارک اتھارٹی ضم نہیں ہوئیں۔ ٹیکس اور کسٹمز کی مراعات صرف اسی وقت ملتی ہیں جب حکومت گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے دے۔
اہم نکتہ: قانون کی دفعہ 66 منسوخ شدہ قوانین کے تحت کیے گئے ہر کام کو نئے قانون کے تحت کیا گیا سمجھتی ہے اور BIDA، BEZA اور PPPA کے تمام معاہدے، حقوق، واجبات اور مقدمات انویسٹ بنگلہ دیش کو منتقل کرتی ہے۔[1] BIDA کی رجسٹریشن یا BEZA کی الاٹمنٹ ختم نہیں ہوئی، مگر ہر نئی درخواست، ترمیم یا تنازع اب نئی اتھارٹی کے سامنے ہے۔
ایک نظر میں
ایک اتھارٹی
BIDA، BEZA اور PPPA ختم؛ ان کی جگہ ڈھاکہ میں انویسٹ بنگلہ دیش اتھارٹی۔
تاریخیں
قانون 16 جولائی 2026 کا، 20 اگست سے نافذ اور 23 اگست 2026 سے فعال۔
صنعتی علاقے
سابقہ اکنامک زونز، ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اور نجی EPZ اب صنعتی علاقے ہیں۔
پابند مدتیں
اتھارٹی لائسنس، یوٹیلیٹی، ویزا اور ورک پرمٹ کے لیے دوسرے اداروں پر مدت مقرر کر سکتی ہے۔
انضمام سے باہر
BEPZA اور ہائی ٹیک پارک اتھارٹی اپنے قوانین کے تحت الگ رہیں گی۔
فہرستِ مضامین
انویسٹ بنگلہ دیش ایکٹ کیوں لایا گیا
برسوں تک سرمایہ کار ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے اداروں سے نمٹتا رہا: اکنامک زون کی فیکٹری BEZA سے، زون سے باہر کی فیکٹری BIDA سے، اور انفراسٹرکچر کا ٹھیکہ PPP اتھارٹی سے۔
حکومت نے نئے قانون کا جواز ایک حقیقی ون اسٹاپ سروس کی کمی کو بتایا۔ کابینہ نے بل 9 جولائی 2026 کو منظور کیا اور پارلیمنٹ نے 15 جولائی کو کمیٹی کے مرحلے کے بغیر پاس کیا؛ اپوزیشن نے رفتار اور مشاورت کی کمی پر تنقید کی۔[4] اتنی تیزی سے بننے والے قانون میں خلا ہوتے ہیں، اس لیے آئندہ مہینوں میں ترامیم، قواعد اور رہنما ہدایات متوقع ہیں۔
انویسٹ بنگلہ دیش ایکٹ ایک نظر میں: تاریخیں، ڈھانچہ اور نفاذ
انویسٹ بنگلہ دیش ایکٹ کی تاریخ 16 جولائی 2026 ہے۔ دفعہ 1(2) نے نفاذ کو گزٹ نوٹیفکیشن پر چھوڑا؛ اخباری رپورٹ کے مطابق نوٹیفکیشن نے 20 اگست 2026 کی تاریخ مقرر کی۔[6] اتھارٹی نے اگلے کاروباری دن، 23 اگست، وزیرِ اعظم کے دفتر کے تحت کام شروع کیا، جس کی سربراہی BIDA اور BEZA کے سابق ایگزیکٹو چیئرمین آشک چودھری کر رہے ہیں۔[2] [5]
دفعہ 3 اس قانون کو کسی بھی دوسرے نافذ قانون پر فوقیت دیتی ہے۔ قانون بنگلہ زبان میں منظور ہوا؛ دفعہ 67 انگریزی مستند متن کی اشاعت کا ذکر کرتی ہے اور اختلاف کی صورت میں بنگلہ متن کو ترجیح ہوگی۔[1] اس لیے کوئی بھی انگریزی یا اردو خلاصہ ترجمہ ہے؛ جہاں نکتہ الفاظ پر منحصر ہو، اصل متن دیکھیں۔
کیا منسوخ ہوا اور کیا نہیں
دفعہ 66(1) بنگلہ دیش اکنامک زونز ایکٹ 2010، PPP ایکٹ 2015، BIDA ایکٹ 2016 اور ون اسٹاپ سروس ایکٹ 2018 کو منسوخ کرتی ہے اور BEZA، PPP اتھارٹی اور BIDA کو تحلیل کرتی ہے۔[1] بل کے دنوں کی خبروں میں ہائی ٹیک پارک اتھارٹی کے انضمام کا ذکر تھا، مگر شائع شدہ قانون نہ ہائی ٹیک پارک کا قانون منسوخ کرتا ہے نہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کا۔ اس لیے BEPZA اور ہائی ٹیک پارک اتھارٹی الگ ہیں۔[3]

انویسٹ بنگلہ دیش اتھارٹی: انتظام اور اختیارات
دفعہ 4 اتھارٹی کو ایک کارپوریٹ ادارہ بناتی ہے جس میں ایک چیئرمین اور سات کل وقتی ارکان ہیں، جنہیں حکومت مقرر کرتی ہے۔ دفعہ 7 ایک گورننگ بورڈ بناتی ہے جس کی صدارت وزیرِ اعظم یا ان کا نامزد کردہ کرتا ہے، اور اس میں سات وزرا، بنگلہ دیش بینک کے گورنر، سیکریٹری اور نجی شعبے کے چار نمائندے شامل ہیں، جن میں دو خواتین ہوں گی۔[1]
دفعہ 6 اتھارٹی کو سرمایہ کاری کا فروغ، مراعات اور ملکی و غیر ملکی سرمائے کے جوائنٹ وینچرز کی منظوری، ویزا کی سفارش، اور صنعتوں اور برانچ، لائژن و نمائندہ دفاتر کے غیر ملکی ملازمین کے ورک پرمٹ کا اختیار دیتی ہے۔ صنعتی علاقوں میں جگہ کا انتخاب، زمین کی الاٹمنٹ، ڈویلپرز کی تقرری اور واحد ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے لائسنس بھی اسی کے پاس ہیں۔[1]
اکنامک زونز اب صنعتی علاقے
سب سے اہم تصوراتی تبدیلی "صنعتی علاقہ" ہے۔ دفعہ 2(32) اسے دفعہ 16 کے تحت حکومت کا اعلان کردہ علاقہ قرار دیتی ہے اور اس میں نفاذ سے پہلے کے تمام اکنامک زونز، ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اور نجی EPZ کو صراحت سے شامل کرتی ہے۔[1] یعنی BEZA کا زون 20 اگست 2026 کو ختم نہیں ہوا؛ وہ نئے قانون کے صنعتی علاقوں میں سے ایک بن گیا۔
دفعہ 12 صنعتی علاقوں کی سات اقسام رکھتی ہے، جن میں PPP، ملکی یا غیر ملکی سرمایہ کاروں کے نجی علاقے، سرکاری علاقے، حکومت سے حکومت کے علاقے اور کسٹمز ایکٹ 2023 سے جڑے فری زونز شامل ہیں۔ دفعہ 16 کے تحت کوئی علاقہ تبھی وجود رکھتا ہے جب حکومت زمین کی تفصیل کے ساتھ گزٹ میں اعلان کرے۔[1] زون کی حیثیت پر سرمایہ کاری سے پہلے یہ نوٹیفکیشن حاصل کریں اور دیکھیں کہ آپ کا پلاٹ درج زمین کے اندر ہے۔
زمین، الاٹمنٹ اور منسوخی
دفعہ 17 کے تحت صنعتی علاقے، یا اس سے باہر رجسٹرڈ منصوبے، کے لیے درکار زمین عوامی مفاد کی سمجھی جاتی ہے اور اتھارٹی کی درخواست پر حاصل کی جا سکتی ہے۔ دفعہ 19 زمین اور عمارتوں کی الاٹمنٹ، لیز یا کرایہ داری کی اجازت دیتی ہے، اور دفعہ 20 خلاف ورزی یا غیر مجاز استعمال پر معطلی یا منسوخی کی۔[1] زون کی لیز پر ضمانت لینے والے قرض دہندگان کو یہ وجوہات غور سے پڑھنی چاہییں۔

مراعات: انویسٹ بنگلہ دیش ایکٹ براہِ راست نہیں دیتا
ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ انویسٹ بنگلہ دیش ایکٹ خود ٹیکس یا کسٹمز کی چھوٹ دیتا ہے۔ ایسا نہیں۔ دفعہ 21 اور 22 حکومت کو اجازت دیتی ہیں کہ گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے، مقررہ مدت کے لیے، صنعتی علاقوں کے اندر اور ان سے باہر رجسٹرڈ منصوبوں کو خصوصی کسٹمز سہولت اور مالی و غیر مالی مراعات دے۔[1]
دفعہ 26 ڈویلپرز، آپریٹرز یا یونٹس کو درج قوانین، جن میں اسٹامپ ایکٹ 1899، فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947، VAT کا قانون اور انکم ٹیکس ایکٹ 2023 شامل ہیں، سے نوٹیفکیشن کے ذریعے مستثنیٰ کرنے کا اختیار دیتی ہے۔[1] یہ اختیار ہے، حق نہیں۔ زونز کے سرمایہ کاروں نے جون 2026 میں دس سالہ ٹیکس چھوٹ اور مشینری پر صفر ڈیوٹی کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔[13]
رائلٹی اور تکنیکی معاونت
دفعہ 27 کے تحت جو صنعتی ادارہ کسی غیر ملکی ادارے کو رائلٹی، نو ہاؤ، تکنیکی معاونت یا فرنچائز فیس ادا کرے، اسے رقم کے تعین کے لیے اتھارٹی سے رجوع کرنا ہوگا؛ ادا وہی رقم ہوگی جو مقرر ہو۔[1] لاہور کا ٹیکسٹائل گروپ جو اپنا برانڈ لائسنس کرے یا کراچی کی انجینئرنگ کمپنی جو فیکٹری کو تکنیکی معاونت دے، دونوں کو یہ شق لائسنس کے معاہدے سے پہلے دیکھنی چاہیے۔
منصوبے کی رجسٹریشن اور پابند مدتیں
دفعہ 28 کے تحت نجی شعبے میں صنعت لگانے والا اتھارٹی سے منصوبے کی رجسٹریشن مانگتا ہے، سوائے اس کے کہ وہ کسی اور قانونی اتھارٹی، جیسے BEPZA یا ہائی ٹیک پارک اتھارٹی، کے تحت ہو۔ رجسٹریشن لیٹر عمل درآمد کی مدت طے کرتا ہے اور حسبِ ضرورت بیرونی قرض، زمین، کسٹمز کلیئرنس، ماحولیاتی، فائر اور تعمیراتی لائسنس، ویزا، ورک پرمٹ اور یوٹیلیٹی کنکشن پر فیصلہ کرتا ہے۔[1]
دفعہ 28(5) مرکزی شق ہے: ان خدمات پر اتھارٹی کے فیصلے متعلقہ ادارے کے فیصلے سمجھے جاتے ہیں، اور ادارے مقررہ مدت میں عمل کے پابند ہیں؛ ناکامی پر اتھارٹی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کا حکم یا سفارش کر سکتی ہے۔[1] اتھارٹی کے مطابق 14 دن میں لائسنسنگ کا نظام اسی بنیاد پر نافذ ہو رہا ہے۔[2] ہر درخواست کا تاریخ وار ثبوت رکھیں اور مدت گزرنے پر تحریری شکایت کریں۔
رجسٹریشن کے بعد پابندیاں
دفعہ 28(8) منظور شدہ صنعت کی نوعیت یا ملکیت پیشگی اجازت کے بغیر بدلنے سے منع کرتی ہے۔[1] اس لیے رجسٹرڈ کمپنی میں حصص کی فروخت یا گروپ کی تنظیمِ نو سے پہلے اتھارٹی سے جانچ ضروری ہے۔ دفعہ 29 برانچ، لائژن، نمائندہ یا پراجیکٹ آفس کھولنے کے لیے بھی اتھارٹی کی اجازت لازم کرتی ہے۔[1] [9]
بنگلہ بز: واحد ڈیجیٹل پلیٹ فارم
دفعہ 50 تمام خدمات، لائسنسوں اور اجازتوں کے لیے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم لازم کرتی ہے جس سے تمام ادارے منسلک ہوں؛ موجودہ پورٹل مرحلہ وار منتقل ہوں گے۔[1] اتھارٹی بنگلہ بز (BanglaBiz) کو یہی پلیٹ فارم بنا کر چلا رہی ہے۔[2] منتقلی کے دوران ہر درخواست کا درست ذریعہ معلوم کریں۔
| ادارہ | قانونی بنیاد | دائرۂ کار | عملی نکتہ |
|---|---|---|---|
| انویسٹ بنگلہ دیش اتھارٹی | ایکٹ نمبر 104 بابت 2026 | زون سے باہر نجی صنعت، صنعتی علاقے، PPP | BIDA، BEZA اور PPPA کی جانشین |
| BEPZA | BEPZA کا اپنا قانون | ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز | انضمام سے باہر، اپنی مراعات |
| ہائی ٹیک پارک اتھارٹی | ہائی ٹیک پارک کا قانون | ہائی ٹیک اور آئی ٹی پارکس | انضمام سے باہر |
| بنگلہ دیش بینک | فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 | سرمائے کی آمد، رپورٹنگ اور واپسی | اتھارٹی کی رجسٹریشن اس کا متبادل نہیں |
| RJSC | کمپنیز ایکٹ 1994 | کمپنی، برانچ اور لائژن آفس کی رجسٹریشن | منصوبے کی رجسٹریشن سے پہلے |

پاکستانی کمپنیوں کے لیے انویسٹ بنگلہ دیش ایکٹ کا مطلب
یہ قانون انتظامی یکجائی ہے، سرمایہ کاری کا ضابطہ نہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ "سرمایہ کاری" یا "سرمایہ کار" کی تعریف نہیں کرتا، قومی سلوک، ضبطی یا سرمائے کی منتقلی کے معیار طے نہیں کرتا اور شکایت کا آزاد نظام نہیں بناتا۔[7] یہ تحفظات بدستور فارن پرائیویٹ انویسٹمنٹ (پروموشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 1980 اور دو طرفہ معاہدوں سے آتے ہیں۔
یہی پاکستانی سرمایہ کار کے لیے اہم ہے: پاکستان اور بنگلہ دیش کا 1995 کا سرمایہ کاری معاہدہ دستخط شدہ ہے مگر نافذ نہیں۔[10] دوہرے ٹیکس سے بچاؤ کا معاہدہ البتہ NBR کی فہرست میں موجود ہے۔[11] نافذ BIT کے بغیر اتھارٹی کے وعدے، یعنی مراعات، زمین اور مدتیں، رجسٹریشن لیٹر یا الاٹمنٹ کے معاہدے میں لکھے ہونے چاہییں تاکہ 1980 کے قانون کے تحفظ کے پاس بچانے کو کچھ ٹھوس ہو۔
ویزا اور آمد و رفت
اتھارٹی ویزا کی سفارش اور ورک پرمٹ جاری کرتی ہے، اس لیے پاکستانی انتظامیہ کی آمد و رفت بھی اسی نظام سے جڑی ہے۔ جنوری 2025 میں پاکستان میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر نے لاہور چیمبر آف کامرس میں بتایا کہ پاکستانی شہریوں کو ویزا دینے کے لیے ڈھاکہ سے کلیئرنس کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔[14] کابینہ نے اگست 2026 میں نئی ویزا پالیسی 2026 کا مسودہ منظور کیا، جس کے اجرا اور نفاذ کی تاریخ ابھی تصدیق شدہ نہیں۔[12]
جو گروپ ایکسپورٹ پروسیسنگ زون منتخب کرے، وہ بدستور BEPZA سے معاملہ کرتا ہے، جو سو فیصد غیر ملکی ملکیت اور مکمل واپسیٔ سرمایہ سمیت اپنی مراعات دیتی ہے۔[8] EPZ، ہائی ٹیک پارک یا صنعتی علاقے میں انتخاب دراصل ریگولیٹر کا انتخاب ہے۔
غلطیاں جن سے بچیں
- دفعہ 16 کے نوٹیفکیشن اور زمین کی تفصیل کے بغیر زون کی حیثیت فرض کرنا۔
- ایسی مراعات پر انحصار جو ابھی گزٹ میں نوٹیفائی نہیں ہوئیں۔
- دفعہ 28(8) کی اجازت کے بغیر رجسٹرڈ منصوبے کے حصص بیچنا۔
- دفعہ 27 کے تحت رقم مقرر ہوئے بغیر پاکستانی مرکزی کمپنی کو رائلٹی دینا۔
- BIDA یا BEZA کے حوالوں والے معاہدے اپ ڈیٹ نہ کرنا۔
ریگولیٹر کا تعین
دیکھیں کہ منصوبہ انویسٹ بنگلہ دیش، BEPZA یا ہائی ٹیک پارک اتھارٹی کے تحت ہے۔
پرانی منظوریوں کا جائزہ
BIDA یا BEZA کی رجسٹریشن، الاٹمنٹ اور شرائط کی فہرست بنائیں اور معاہدوں کے حوالے اپ ڈیٹ کریں۔
زون کی تصدیق
دفعہ 16 کا گزٹ نوٹیفکیشن لیں اور پلاٹ کو درج زمین سے ملائیں۔
رجسٹریشن کی درخواست
بنگلہ بز پر منصوبے کی رجسٹریشن دیں اور درکار خدمات کی فہرست شامل کریں۔
وعدے تحریری کرائیں
مراعات، زمین اور مدتیں رجسٹریشن لیٹر یا الاٹمنٹ کے معاہدے میں درج کرائیں۔
رائلٹی کا تعین
پاکستانی مرکزی کمپنی کو رائلٹی یا تکنیکی فیس سے پہلے دفعہ 27 کے تحت رقم مقرر کرائیں۔
تبدیلی سے پہلے اجازت
حصص کی فروخت یا تنظیمِ نو سے پہلے دفعہ 28(8) کی اجازت لیں۔
مکمل انگریزی تجزیے کے لیے ہمارا رہنما Invest Bangladesh Act 2026، investment approvals اور ہمارا شعبہ صنعتی پارکس اور اکنامک زونز دیکھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
انویسٹ بنگلہ دیش ایکٹ کیا ہے؟
16 جولائی 2026 کا ایکٹ نمبر 104، جس نے انویسٹ بنگلہ دیش اتھارٹی قائم کی اور BIDA، BEZA اور PPP اتھارٹی کو ختم کیا۔[1]
اتھارٹی کب سے کام کر رہی ہے؟
کیا BIDA اور BEZA کی منظوریاں اب بھی درست ہیں؟
ہاں۔ دفعہ 66 سابقہ اقدامات کو نئے قانون کے تحت سمجھتی ہے اور معاہدے و کارروائیاں انویسٹ بنگلہ دیش کو منتقل کرتی ہے۔[1]
کیا BEPZA انویسٹ بنگلہ دیش میں ضم ہوئی؟
صنعتی علاقہ کیا ہے؟
دفعہ 16 کے تحت گزٹ میں اعلان کردہ علاقہ، جس میں سابقہ اکنامک زونز، EPZ اور نجی EPZ شامل ہیں۔[1]
کیا یہ قانون ٹیکس چھوٹ دیتا ہے؟
براہِ راست نہیں۔ حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے مراعات اور استثنا دے سکتی ہے، اور ہر فائدہ اسی نوٹیفکیشن کی شرائط تک محدود ہے۔[1]
کیا اتھارٹی دوسرے اداروں کو مدت کا پابند کر سکتی ہے؟
رجسٹرڈ منصوبوں کے لیے ہاں؛ دفعہ 28 مدتیں مقرر کرنے اور اتھارٹی کے فیصلوں کو متعلقہ ادارے کا فیصلہ سمجھنے کی اجازت دیتی ہے۔[1]
کیا رجسٹرڈ منصوبے کے حصص آزادانہ بیچے جا سکتے ہیں؟
پیشگی اجازت کے بغیر نہیں؛ دفعہ 28(8) ملکیت یا صنعت کی نوعیت بدلنے سے منع کرتی ہے۔[1]
کیا پاکستان اور بنگلہ دیش کا سرمایہ کاری معاہدہ نافذ ہے؟
نہیں۔ UNCTAD کے مطابق 1995 کا معاہدہ 24 اکتوبر 1995 کو دستخط ہوا مگر نافذ نہیں ہوا۔[10]
ماخذات کا اندراج
بنیادی قانونی و ضابطہ جاتی ماخذات
مواد کی جانچ 24 اکتوبر 2026 کو کی گئی۔ کسی شق پر انحصار سے پہلے موجودہ سرکاری متن کی تصدیق کریں۔
- Invest Bangladesh Act 2026 (Act No. 104 of 2026) — Laws of Bangladesh (Bengali text)
- Invest Bangladesh, 23 August 2026 — Invest Bangladesh begins journey as country's apex investment promotion agency
- The Business Standard, 20 August 2026 — Bida, Beza, PPPA merge as Invest Bangladesh takes effect
- The Daily Star, 16 July 2026 — Invest Bangladesh Bill passed
- The Daily Star, 23 August 2026 — Invest Bangladesh begins operations
- Daily Observer, 21 August 2026 — Invest Bangladesh Act brought into force by notification
- Oxford Business Law Blog, 5 October 2026 — Beyond institutional merger: the Invest Bangladesh Act 2026
- BEPZA — Why BEPZA: incentives and facilities
- Invest Bangladesh — FAQ
- UNCTAD Investment Policy Hub — Bangladesh investment agreements
- National Board of Revenue — Double Taxation Avoidance Agreements
- The Business Standard, 10 August 2026 — Cabinet clears drafts of human rights act, new visa policy
- The Daily Star, June 2026 — BEZIA calls for tax holiday reinstatement
- Daily Observer, 13 January 2025 — Bangladesh simplifies visa processing for Pakistani nationals
TRW کی معاونت
معلومات سے واضح اگلے قدم تک
TRW پاکستانی سرمایہ کاروں کو منصوبے کی رجسٹریشن، BIDA اور BEZA کی منظوریوں کی منتقلی، صنعتی علاقوں میں زمین اور رائلٹی کے تعین پر مشورہ دیتی ہے۔ ہمارا شعبہ صنعتی پارکس اور اکنامک زونز دیکھیں، مشاورت کا وقت لیں یا ڈھاکہ میں ہماری ٹیم سے رابطہ کریں۔











